کاتب وقت

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - مراد: خدائے تعالٰی۔  مری جان آج کا غم نہ کر کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہ جانے کا وقت نے کہیں لکھ رکھی ہوں مُسرتیں      ( ١٩٨٤ء، نسخہ ہائے وفا، ٦٤٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'کاتب' کو کسرہ اضافت کے ذریعے اسی باب سے مشتق اسم 'وقت' کے ساتھ ملانے سے مرکب اضافی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٤ء کو "نسخہ ہائے وفا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر